Korutla کورٹلہ کی تاریخ اردو میں

Korutla کورٹلہ کی تاریخ اردو میں

:  korutla کورٹلہ کی تاریخ اردو میں

 شہر کربلا کورٹلہ [korutla]  ریاست تلنگانہ کی سرزمین پر تعلیم کے میدان میں زرخیز زمین تصور کیا جانے والا واحد شہر ہے  تاریخی پس منظر میں شہرکورٹلہ کا اصل نام کوٹلہ تھا اور یہ  کورٹلہ میں تبدیل ہو گیا کورٹلہ قلعہ گاڑی کے پچھلے جانے ایک قدیم کون رہے جہاں ایک کتبہ وہ کتبہ  1042 سے 1068 تک کا ہے  سوماد یورا کا لکھا ہوا ہے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے. کہ کورٹلہ کی آبادی 1042 سے قبل  سے بسی ہوئی ہے ضلع کریم نگر کے شہر میں ایک اہم شہر کورٹلہ تھا اب ضلع  جگتیال تبدیل ہو گیا اب کورٹلہ کا ضلع جگتیال میں آتا ہے.

کورٹلہ میں  تقریبا ایک لاکھ سے زائد آبادی رہتی بستی ہے حالیہ میں اس کو حلقہ اسمبلی بھی تبدیل کیا گیا کہا جاتا کہ اٹلی کا  کا نام نظام دور میں رکھا گیا یوں تو اس کو  کروٹو  کے نام سے جانا جاتا اس کے بعد کوٹلہ کیا گیا  اور آخر میں کا نام کورٹلہ  میں تبدیل ہو گیا شہرکورٹلہ کا نام سنتے ہی یہاں کے آثار قدیمی قدیم گڑی ہے اور اس کے برج اپنی پرانی تاریخ یاد تازہ کرتے ہیں اس آبادی کے چاروں طرف چار دروازے ]تھےkorutla] 

  ایلاء پور  korutla  .1

 سنگم دروازہ  korutla  .2

 پیدا پورم دروازہ  korutla  .3

 گملا پورم دروازہ  korutla  .4

 جو گاوں کی حفاظت کے لیے بنوایا گیا تھا. کورٹلہ  حکومت کی مالک جن کو وطن دار کہتے ہیں ان کا ٹھکانہ گڑی  کے احاطے میں تھا

Korutla Jameh-Masjid جامع مسجد

 شہرکورٹلہ کی عظیم اور خوبصورت مسجد جامع مسجد ہیں اس مسجد میں متصل ایک چھوٹا سا قبرستان موجود ہے اس مسجد کی توسیعی کام جاری ہے اور بہترین نقشے کے ذریعے اس مسجد کی خوبصورتی اور تمام سہولتوں کو فراہم کیا جا رہا ہے

 

 

Korutla Jameh-Masjid جامع مسجد Korutla Jameh-Masjid جامع مسجد

 Korutla Eidgha-Masjid  :مسجد عیدگاہ

 شہرکورٹلہ  کے جنوب کی جانب ایک چھوٹا سا پہاڑ ہے جس کو اللہ میاں گھٹا کہا جاتا ہے اس کے اوپر کی جانب جدید عیدگاہ کو تعمیر کیا گیا ہے بہتر سے بہتر انتظامات کے لئے وقفے وقفے سے تعمیراتی کام انجام دیا جا رہا ہے اور آج بہترین سہولتوں کے ساتھ خوبصورت عیدگاہ کی شکل میں ہمارے درمیان ہے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کریم نگر ضلع میں اتنا بڑا اور اتنا بہترین اور خوبصورت وسیع عیدگاہ صرف یہیکورٹلہ  میں واقع ہے بہرکیف ضلع کریم نگر میںکورٹلہ  ایک واحد شہر ہے جہاں اردو کی خدمات عروج پر ہے اس کا اندازہ یہاں کے اردو میڈیم مدارس ہے یہاں کی عوام اپنے بچوں کو اردو تعلیم دلوانے کی  خواہاں  ہے اور اسکورٹلہ  میں قومی یکجہتی کا گہوار ہمیشہ بنا رہتا ہے

Korutla Jameh-Masjid جامع مسجد

Edn1771 گورنمنٹ جونیئر کالج کورٹلہ  کی ابتدا جی کوڈ نمبر

 بتاریخ 1970/02/04  کے ذریعے قیام عمل میں آیا آئی جی او کے تحت  تلگو  میڈ یم ایم پی سی. بی بی سی سی. سی ای سی.    1669/End ایچ ای سی.  مصر گروپس کی منظوری عمل میں آئی اور جی او ایم ایس نمبر

 مورخہ1970/09/06 پرنسپل اور لیکچرر س کی جائیں داروں کی منظوری عمل میں آئی. جس میں ایک پرنسپل 11 جونیئر لیکچرز اور     

 Korutla Government junior college  گورنمنٹ جونیئر کالج کورٹلہ کی تاریخ

 ایک عدد PD

 .اور ایک لائبریرین پوسٹ کا قیام عمل میں آے

 پہلی  میں صرف بین نور طالب علم میں داخلہ لیا انیس سو اکتر میں پہلی بیچ کے امتحانات میں 92 طلبہ وطالبات میں  64 طلبہ و طالبات نے کامیابی کی سیڑھی کو چڑھا کیا میابی کا فیصد ستر 

Korutla کورٹلہ کی تاریخ اردو میں

%70  تھا جس میں بی پی سی میں 

418 نشانات حاصل کرکے عالی کالج میں سرپرست کا مقام حاصل کیا دوسرے نمبر پر لکشمی  نے ایم پی سی گروپ سے 

409 نشانہ سے کامیابی حاصل کیا

 تلنگانہ ریاست قائم ہونے کے بعد پہلے پرنسپل کی حیثیت سے جناب  واجد صاحب خدمات انجام دیتے رہے 

1985 میں محبان اردو کی انتھک کوششوں کی وجہ سے تلگو میں ڈیم کے ساتھ ساتھ اردو میڈیم انٹرمیڈیٹ کے متوازی جماعتوں کا خیام عمل میں لایا. اس وقت کے انجمن ترقی اردو کے صدر جناب محمد عبدالقادر صاحب کی زیر نگرانی محمد کریم الدین لیکچرر’ محمد نعیم الدین لیکچرر’ محمد عثمان  بی جی ایچ’ محمد عبد الوحید صاحب’ محمد  عبدالمقیم صاحب’ عبدالماجد پرنسپل محمد عبدالمجید صاحب” محمد عبدالعزیز’ سید فیصل احمد لیکچرر’ خواجہ  سعید الدین اظہر’ محمد عبدالوحید’ اور دیگر محبان اردو میں دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اردو زبان کی فروخت کے لئے دن رات محنت کرتے ہوئے سیاسی و سماجی کو استعمال کرتے ہوئے وقت کے

MLA  شکاری وشواناتھم  کی کوششوں  اور دلچسپیوں  کی وجہ سے جی او ایم ایس نمبر

 479/End مورخہ1985/11/08 

 کے   مراسلے کے ذریعے اردو میڈیم متوازی جماعتوں کا قیام عمل میں لایا گیا اس جی او کے تحت 9 لیکچرز کی  کی منظوری ملی. اس بعد جی او ایم ایس نمبر 

Korutla کورٹلہ کی تاریخ اردو میں

273/End  مورخ 1987/08/20  

اردو لیکچرر سکی منظوری عمل میں لائی گئی ایم پی سی. بی بی سی. اور ایچ ای سی گروپس کی منظوری ملی لیکن طلباء کی تعداد ایم پی سی میں داخلہ نہ لینے کی صورت میں ریاضی لیکچر کا پوسٹ گورنمنٹ جونیئر کالج حضور اباد کو منتقل ہو گیا. چونکہ اس وقت اردو میڈیم کے پرائمری اسکول کم ہونے کی وجہ سے انٹرمیڈیٹ میں داخلہ لینے والوں کی تعداد گھٹ گئی محمد عبدالجبار صاحب مرحوم اور احمد عبد النعیم مرحوم عبدالجمیل خان صاحب اور محمد عبدالرحیم فروٹ مرچنٹ اور عبدالحکیم صاحب مرحوم کی مالی و تعاون کوششوں کی وجہ سے کالج کو بحال کرنے کے لئے ہر محلے میں  پرائمری اسکولز قائم کیے جس کی وجہ سے آج تقریبا 

10 اردو میڈیم کے ہائی سکولز کا کردار ہے طلبہ کی تعداد اور خواہشمندوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دوبارہ ایم پی سی گروپ کی منظوری

کیلئے سن

Korutla کورٹلہ کی تاریخ اردو میں

2010 میں اس وقت پرنسپل ایم  راجانہ سی سی گروپ کے لئے سن

 2002 میں تمام اردو میڈیم لیکچرز کی دلچسپی اور پرنسپال 

Leave a Reply

Your email address will not be published.